Ghazal - Azaab Ankh Mein Utray
May 19, 2007 on 6:29 pm | In Gulab Khushbo Bana Gaya |عذاب آنکھ میں اترے تو راستہ نہ ملا
گلاب خاک میں بکھرے تو راستہ نہ ملا
جنوں کا پہلے سے انکار کر لیا ہوتا
اب اس مقام پر مکرے تو راستہ نہ ملا
یہ تیرگی میں چمکتے رہے ادھر سے ادھر
ستارے دھوپ سے نکھرے تو راستہ نہ ملا
کہاں تو موجوں پہ رکھ کر قدم گزرتے تھے
بھنور کے زاویے بپھرے تو راستہ نہ ملا
یہ کائنات تو پیچھے ہی رہ گئی تھی کہیں
ہجوم ذاات سے گزرے تو راستہ نہ ملا
لگا تھا ڈوب کے ،منزل کو چھو لیا ہے بتول
مگر جو ڈوب کے ابھرے تو راستہ نہ ملا
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^