Ghazal - Dil Aab Bhi Iztiraab Say Agay nahi gaya
May 18, 2007 on 11:27 pm | In Gulab Khushbo Bana Gaya |دل اَب بھی اِضطراب سے آگے نہیں گیا
جیسے خیال ‘ خواب سے آگے نہیں گیا
آنکھیں سمندروں کے تعاقب میں بھیج دیں
لیکن قدم حَباب سے آگے نہیں گیا
نقطہ سا خال تک تری نظروں نے چُھولیا
اَب بھی بتا ‘ نقاب سے آگے نہیں گیا؟
منزل تلاشتی رہی پیروں کے زاویے
رَستہ مگر سراب سے آگے نہیں گیا
ہم نے دھیان کر لیا حدِ نگاہ تک
مانا کہ وہ جناب سے آگے نہیں گیا
ہم ذات کی اَساس پہ آکر ٹھہر گئے
وہ اَب بھی اِنتخاب سے آگے نہیں گیا
دل نت نئے گُلاب ہی کرتا رہا تلاش
اور نت نئے عذاب سے آگے نہیں گیا
پیچھے کی سمت جاتا رہا جس حساب سے
اِنسان اِس حساب سے آگے نہیں گیا
کُچھ سوچ کر قلم نے اِرادہ بدل لیا
وہ نام اِنتساب سے آگے نہیں گیا
گُم عشق کی کتاب میں آنکھیں ہوئیں بتول
دل کربلا کے باب سے آگے نہیں گیا
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^