Ghazal - Had e Amkaan Say Paray Khawb Nagar
May 18, 2007 on 11:51 pm | In Gulab Khushbo Bana Gaya |حدِامکاں سے پرے خواب نگر ہوتا ہے
نیند کا باسی بھی بیدار اھر ہوتا ہے
چار سو پھیلناخوشبو کی تو خو ہے لیکن
وہ ہے اک پُھول ،تو کیوں شہر بدر ہوتا ہے
رات بھر ااُس کو ستاروں میں ہو یدا دیکھا
چاند بتلائے کہ وہ دن میں کدھر ہوتا ہے؟
وہ نہیں سنگ ، مگر سنگ کے جیسا ہی سمجھ
مِری باتوں کا کہاں اس پہ اثر ہوتا ہے
پہلی دستک میں میرے دل میں اُترنے والے
دَر کھلے جس کیلئے اس کا ہی گھر ہوتا ہے
میری باتوں پہ خفا ہونا ترا حق ہے مگر
چھوڑ دے کون،کہاں،اتنا تو ڈر ہوتا ہے
وہ ہواؤں سے کیا کرتاہے باتیں اکثر
کچے ّ آنگن کا جو تنہا سا شجر ہوتا ہے
کسی چوکھٹ پہ بھلا اسکو جھکاؤں کیسے
جس کی ہوتی ہے انا اُس کا ہی سَر ہوتا ہے
لوگ آنکھوں کی زباں جان بھی سکتے ہیں بتول
چور گھر میں ہو اگر لٹنے کا ڈر ہوتا ہے
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^