Ghazal - Hawaoon Say Sada Larnay Ki Adat
May 18, 2007 on 11:16 pm | In Gulab Khushbo Bana Gaya |ہواؤں سے سَدا لڑنے کی عادت
چراغو! چھوڑ دو جلنے کی عادت
ملے گی تم کو منزل سامنے ہی
اگر خاروں پہ ہو چلنے کی عادت
کہاں سُورج کو دیکھے گا زمانہ؟
بدل دے رات جو ڈھلنے کی عادت
اَزل سے تا اَبد کانٹے وہی ہیں
گُلوں میں اِن کو ہے پلنے کی عادت
یہ دل سمجھا تھا وہ پچھتا رہے ہیں
اور اُن کو ہاتھ ہے ملنے کی عادت
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^