Ghazal - Jo Sawa Naizay Pay Souraj

May 19, 2007 on 6:24 pm | In Gulab Khushbo Bana Gaya |

جو سوا نیزے پہ سورج کے نکلتا ہوگا

اسکا سایہ بھی کڑی دھوپ میں جلتا ہوگا

یونہی تو پلکوں پہ یاقوت نہیں آویزاں

کچھ تو ہے جو مرے سینے میںپگھلتا ہوگا

نت نئے رنگ کے چولوں میں جو آتا ہے نظر

وہ تو موسم بھی نہیں کیسے بدلتا ہوگا

درد ہے دل کا مکیں اس کو  نکالے بھی تو کون؟

یہ بھی موتی کی طرح سیپ میں پلتا ہوگا

نت نئی آگ میں ہر روز جلتا ہے جو شخص

ہاتھ اس کا بھی تو اس کھیل میں جلتا ہوگا

پوچھا ، تمام خواب کے منظر بھلا دئیے؟

آیا جواب قید سے پنچھی اڑا دئیے

پوچھا ، کبھی کبھا ر کے ملنے سے بھی گئے؟

میں نے کہا جہان نے پہرے بٹھا دئیے

پوچھا زمانے بھر سے رہ  و رسم کا سبب؟

میں نے کہا ‘ کہا جناب نے پہرے اٹھا دئیے

پوچھا ، وہ ساحلوں کی کہانی کا  کیا بنا ؟

بتلایا،سارے نقش ہوا میں مٹا دئیے

جس پل اُڑائی راکھ تو پوچھا ،یہ کیا کےِا؟

میں نے بتایا ،آپ کے سب خط جلا دئیے

اَرمان آسمان کو چھونے کے کیا ہوئے؟

مَیں نے کہا،زمین کے اندر سُلا دئیے


No Comments yet »

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a comment

XHTML: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^