Ghazal - Khawboon ka Ik Jahaan
May 18, 2007 on 11:30 pm | In Gulab Khushbo Bana Gaya |خوابوں کا اِک جہاں مجھے دے گیا کوئی
مٹی کا اِک مکان مجھے دے گیا کوئی
وہ دل میں رہ گیا ہے کہ دل سے اُترگیا
کتنا عجب گُماں مجھے دے گیا کوئی
صحرا پہ اپنے گھر کا پتہ لکھ گیا تھا وہ
مِٹتا ہوا نشان مجھے دے گیا کوئی
ماہ و نجّوم نوچ کے ‘ سُورج بُجھا دیا
پھر سارا آسمان مجھے دے گیا کوئی
کشتی میں چھید اُس نے کیا اور اُس کے بعد
کاغذ کا بادبان مجھے دے گیا کوئی
اُس نے گُلاب ہاتھ میں لے کر کہا بتول
خُوشبو کا ترجمان مجھے دے گیا کوئی
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^