Ghazal - Mairi Ankhoon Say Roshni Cheeni
May 18, 2007 on 11:53 pm | In Gulab Khushbo Bana Gaya |میری آنکھوں سے روشنی چھینی
تو نے احساس زندگی چھینی
عقل چھینی ہے دے کے دل تو نے
آگ کو دے کے آگہی چھینی
اپنی دہلیز سے ہٹا کے مجھے
آپ نے حق بندگی چھینی
تو نے سودا کیا تو خُوب کیا
غم مجھے دے دیا خُوشی چھینی
لے کے خورشید سے ضیا تونے
چاند اسکی چاندنی چھینی
بے صدا دن کو کس نے کو ڈالا
رات سے کس نے خامشی چھینی؟
شہر سنسان کر دیا کس نے
کس نے لوگوں سے زندگی چھینی؟
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^