Ghazal - Rakh Kay Dhairoon mein
May 18, 2007 on 11:30 pm | In Gulab Khushbo Bana Gaya |راکھ کے ڈھیروں میں خوابوں کا دُھواں ڈھونڈتے ہیں
جو نہیں جس جگہ ہم اُس کو وہاں ڈھونڈتے ہیں
ساری دھرتی ہمیں پُھولوں سے بھرا تھال لگے
ہم بھی خوشبو سے بھرا ایک جہاں ڈھونڈتے ہیں
اِس کٹہرے میں کھڑے ہو کے نہ جانے کب سے
اپنے حق میں بھی کوئی ایک بیاں ڈھونڈتے ہیں
جب وہ منظر سے پرے تھا تو وہ دل سے تھا قریب
پالیا اُس کو تو اب اُس کا دھیاں ڈُھونڈتے ہیں
ہر ستم سہہ کے بھی ہوں ساتھ تو حیرت سے نہ دیکھ!
اب یقیں کھوگیا ‘ ہم صرف گماں ڈُھونڈتے ہیں
ریت کی مِٹتی لکیروں میں بہت غور سے ہم
اپنی گم کردہ سی منزل کا نشاں ڈُھونڈتے ہیں
کتنے سادہ ہیں نشانے پہ کھڑے ہوکے بتول
تیر کو تھام کے ہاتھوں میں ‘ کماں ڈُھونڈتے ہیں
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^