Ghazal - Subhein Nahi Rahi Hein
May 18, 2007 on 11:17 pm | In Gulab Khushbo Bana Gaya |صبحیں نہیں رہی ہیں وہ راتیں نہیں رہیں
اب خواب کیسے دیکھوں کہ آنکھیں نہیں رہیں
میں بھی وہی تھی‘ تُو بھی وہی تھا‘ سمے وہی
لب وَا ہوئے تو جانا‘ وہ باتیں نہیں رہیں
اُمید آخرش کہیں پیچھے ہی رہ گئی
منزل کی سمت جاتی ‘ وہ راہیں نہیں رہیں
سب اعتماد پل میں دَھرے کا دَھرا رہا
جب تیر چل چُکے تو وہ گھاتیں نہیں رہیں
مرنے کی جستجو میں تو جیتے رہے بتول
اب جینا چاہتے ہیں تو سانسیں نہیں رہیں
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^