Nazam - Abhi Thehroo

May 19, 2007 on 12:03 am | In Gulab Khushbo Bana Gaya |

ابھی ٹہرو………..

یہ ناؤ اور پانی کی کہانی ہے مگر ٹھہرو

ابھی ٹھہرو،

ابھی ناؤ کو ساگر کی بپھرتی ، چیختی موجوں کی خواہش ہے

ابھی تو پانیوں میں آگ جل کر بجھنے والی ہے

ابھی پانی کا ناؤ سے تصادم ہونے والا ہے

ابھی تو ناؤ کے نقطے نے پورا چکھنا ہے

ابھی ناؤ نے ہستی کا نیا انداز چکھنا ہے

وہ لمحہ آنے والا ہے کہ اس ناؤ میں کوئی چھید ہوجائے

شرارت سے بھری اک موج نے اس چھید میں انگڑائی لینی ہے

اور اس میں ہر طرف چنگاریاں سی اٹھنے والی ہیں

اور ان چنگاریوں میں جان لیوا کروٹیں ہوں گی

ہر اک کروٹ بیاکل روگ لائے گی

کبھی تو گد گدائے گی …….کبھی ہل چل مچائے گی

ابھی ٹھہرو،

ابھی پانی کی ساری موج مستی غور سے دیکھو

وہ کیسے ناؤ کو بانہوں میں بھر کر گد گداتا ہے

کبھی نرمی سے چھوتا ہے

بپھر کر سرتا پا اس کو گلے سے آلگاتا ہے

ابھی ٹھہرو

ابھی کچھ دیر میں ناؤ کے ہچکولوں میں شدت آنے والی ہے

وہ پانی کے مسلسل وار کو اب سہہ نہ پائے گی

بہت مچلے گی ،تڑپے گی ، بالآخر ہار جائے گی

ابھی ٹھہرو ………

No Comments yet »

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a comment

XHTML: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^