Nazam - Mohabbat Naam Ka
May 19, 2007 on 6:32 pm | In Gulab Khushbo Bana Gaya |محبت نام کا جو اک جزیرہ ہے!
محبت نام کا جو اک جزیرہ ہے
وہاں جانا پڑے تم کو
ہماری یاد کو ساتھ لے لینا
سنا ہے اس جزیرے پر کبھی دو ہنس رہتے تھے
وہ دونوں ایک دوجے کے دلوں پر راج کرتے تھے
وہ اک دوجے کی آنکھوں میں اترکر خواب چنتے تھے
وفا کے تانے بانے ریشمی باتوں سے بنتے تھے
پھر اس کی روز ہی تجدیدبھی کرتے
مگر رت کے بدلتے ہی ہوا ایسے
وہ دونوں مختلف سمتوں میں چل نکلے
سنا پھر کبھی دونوں کو ایک ساتھ نہیں دیکھا
محبت نام کو جو اک جزیرہ ہے
وہاں جانا پڑے تم کو
تواس تنہا زشجر کے پاس بھی جانا
کہ جس کی ساری شاخوں کے لبادے پر،
ہر اک جانب کسی کا نام لکھّا ہے
سنا ہے لکھنے والا ،زندگی بھر پھر کبھی کچھ نہیں لکھ پایا
وہ اپنی انگلیوں پر خون کی مہریں لگا بیٹھا
مقدّر دار کر بیٹھا ۔۔۔وہ خود کو ہار کر،بیٹھا
محبت نام کو جو اک جزیرہ ہے
وہاں جانا پڑے تم کو
ہماری یاد کو بھی ساتھ لے لینا
ہماری یاد تپتی دھوپ میں چھاؤں کی صورت ہے
یہ ماضی کے کسی معصوم سے گاؤں کی صورت ہے
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^