Nazam - Tissue Paper

May 19, 2007 on 6:22 pm | In Gulab Khushbo Bana Gaya |

"ٹشو پیپر۔۔۔"

اس روتی ہوئی لڑکی نے کہا

تم پتھر ہو

تم پاپی ہو

تم ظُلم نگر کے باسی ہو

خاروں کے یہ سندیسے تم نے

بھیجے تو ہاتھ نگار ہوئے

آنکھوں سے لہوکی بوندوںنے

گر گر کر بھگویا آنچل کو

ہم خواب نگر کے باسی تھے

اب اندھیاروں کی خاک ہوئے

وہ پتھر ہنس کر بول اُٹھا

پگلی لڑکی !تم کیا جانو

ہم مرد عجب مٹی سے بنے

کیا بتلائیں

ہم کھیل کھلونوں کے عادی

نِت رنگوں کے ہم متلاشی

جب کھیلتے ہیں تو کھیلتے ہیں

ہم حسن کو باتوں میں گھیریں

اور گھیر ہی لیں

ہم عشق کا تیر چلاتے ہیں ۔۔تڑپاتے ہیں

اور بعد میں گھائل پنچھی کو

روتا چھوڑکے آتے ہیں

سچ پوچھو تو

عورت کی دو ہی صورتیں ہیں

اک  گھر والی۔۔۔ اک باہر کی

گھر والی ایک رومال سی ہے

باہر کی ۔۔۔ چھوڑو جانے دو

تم جانتی ہو کہ تم کیا ہو؟

رورو کے اپنی آنکھوں کا

تم ایسے مت نقصان کرو

مت جی اپنا ہلکان کرو

ان باتوں میں کیا رکھا ہے

اب ان اشکوں کو پوچھ بھی لو

یہ ٹشو پیپر رکھ لو تم……….

No Comments yet »

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a comment

XHTML: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^