Nazam - Tumhein Kaya Ho Gaya Janaan

May 18, 2007 on 11:16 pm | In Gulab Khushbo Bana Gaya |

تمہیں کیا ہوگیا جاناں!

تمہیں کیا ہوگیاجاناں؟

کبھی چاہت بھرے لمحے گنواتے ہو

کبھی خوابوں سے تعبیریں چُراتے ہو

اور آتش دان میں ‘اپنے ہی لکھے خط جلاتے ہو

کبھی دیوار سی پانی کے سینے پر بناتے ہو

 کبھی تحریر میں تصویر لاتے ہو

کبھی تم ریت پر بنتی لکیروں کو مِٹاتے ہو

ہواؤں کو یہ سارا کام کرنے دو

محبت کو سحر کو‘اُس کو ہی شام کرنے دو

وَفا گُمنام ہونے دو ‘ جفا کو عام کرنے دو

ہواؤں کو یہ سارا کام کرنے دو

No Comments yet »

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a comment

XHTML: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^