Nazam - Ziddi
May 18, 2007 on 11:18 pm | In Gulab Khushbo Bana Gaya |ضدّی
مَیں کیوں دل کی کہانی عام کرنے کا کبھی سوچوں
اَنا نیلام کرنے کا کبھی سوچوں
مجھے تم سے محبت ہے مگر مَیں کیوں کہوں تم سے ؟
مَیں تم سے کیوں کہوں جاناں!
مِری تم دھڑکنوں کی لَے میں شامل ہو
مرے جیون کا حاصل ہو
اگر پلکوں کی جھالر کو اُٹھاؤں تو تمہی تم ہو
جُھکاؤں تو تمہی تم ہو
میں جاگوں تو مجھے تم پیار سے آکر سُلاتے ہو
مَیں سوجاؤں تو تم سرگوشیاں کرکے جگاتے ہو
محبت کا کنول جس میں کھلا وہ جھیل ہوجاناں!
اماوس کی طرح ہوں مَیں توتم قندیل ہوجاناں!
تمہیں مَیں نے خُدا مانا‘تمہی کو ناخُدامانا
مگر مَیں کیوں کہوں تم سے‘
مگر مَیں کیوں کہوں تم سے؟
No Comments yet »
RSS feed for comments on this post. TrackBack URI
Leave a comment
Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed:
Entries and comments feeds.
^Top^