Ghazal - Dil Dukhanay Ki Inteha

May 19, 2007 on 6:34 pm | In Gulab Khushbo Bana Gaya | No Comments

دل دکھانے  کی انتہا کر دی

آزمانے کی انتہا کر دی

تیر تحفے میں بھیج کر دل کو

ظلم ڈھانے کی انتہا کر دی

چونک کر پوچھنے والے

بھول جانے کی انتہا کر دی

جیت کی  مات اوڑھ لی . گویا

سر جھکانے کی انتہا کر دی

دل  کو ناسور کر لیا آخر

گھاؤ کھانے  کی انتہا کر دی

پھر پلٹ کر کبھی نہیں دیکھا

اس کو پا نے  کی انتہا کر دی

تا فلک ہو گیا دھواں سا بتول

راکھ اڑانے کی انتہا کر دی

« Previous PageNext Page »

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^